ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لنگایتوں کو16تا 18فیصد ریزرویشن دیا جائے: ایم بی پاٹل

لنگایتوں کو16تا 18فیصد ریزرویشن دیا جائے: ایم بی پاٹل

Tue, 17 Nov 2020 10:19:20    S.O. News Service

وجئے پور،17؍نومبر (ایس او نیوز) لنگایت ریاست کا ایک اکثریت والا طبقہ ہے۔ پیسے والا کہے جانے والے اس طبقہ نے بھی ریاست میں نوکریوں، تعلیم اور دیگر میدان میں ریزرویشن کے لئے آواز بلند کی ہے۔جبکہ سدارامیا حکومت میں یہی لنگایت طبقہ نے مائنارٹی میں شامل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا مگر ناکام رہا۔

سابق ریاستی وزیر داخلہ و کانگریس رہنما ایم بی پاٹل نے ریاستی وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کے نام ایک مکتوب میں واضح مطالبہ کیا کہ ریاست کے لنگایتوں کو 16-18 فیصد ریزرویشن، نوکریوں اور تعلیم میں دی جائے۔ انہو ں نے بتایا کہ ریاست میں لنگایتوں کی کل آبادی ایک کروڑ ہے جن کی ترقی کے لئے لنگایت ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کی بجائے اگر ریزرویشن دیا جاتا ہے تو اس طبقہ کو تعلیمی اور سرویس میں غیر معمولی فائدہ حاصل ہوگا۔لنگایت ڈیولپمنٹ اتھارٹی قائم ہوگی تو 200-100کروڑ کابجٹ وہ بھی قسط وار ملتا رہے گا مگر کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔اس طرح اتھارٹی کو قائم کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں بسواراج ہورٹی کی جانب سے جو مانگ کی گئی ہے اس کی ہم سب لنگایت کے لجس لیٹرس اور ایم بی حمایت کرتے ہیں اور بہت جلد تمام لنگایت کے منتخب شدہ نمائندوں کا اجلاس منعقد کیا جائے گااور وزیراعلیٰ پر دباؤ ڈالنے کے بعد مثبت نتائج کے امکانات کی امید ہے۔ وزیراعلیٰ کے نام تحریر کئے گئے مذکورہ مکتوب کی کاپیاں پریس کو جاری کی گی ہیں جس میں ایم بی پاٹل نے واضح طور پر بتایا ہے کہ ریزرویشن کی بجائے لنگایت ابھیورودھی پرادھیکارا اگر قائم کیا جاتاہے، وہ ضرور لنگایتوں کے آنسو پونچھنے جیسا ہوگا۔ دراصل ریزرویشن کے ذریعہ ہی لنگاتیوں کی ہمہ جہت ترقی ممکن ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال حال تک لنگایت یہ کہتے ہوئے مائنارٹی زمرہ میں شامل ہونے کا مطالبہ کررہے تھے کہ آبادی کے لحاظ سے ان کی آبادی بالکل کم ہے۔ اب آبادی ایک کروڑ بتا کر ریزرویشن کا مطالبہ کرنے لگے ہیں جبکہ ریاست میں سب سے زیادہ لجس لیٹرس لنگایت ہیں اور اکثر مرتبہ لنگایت طبہ کا وزیراعلیٰ ریاست کی کمان سنبھالتا رہا ہے۔اس طرح لنگایت ریاست کے اقلیتوں کا حق مارنے پر تلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔


Share: